ملک ندیم کامران
| ملک ندیم کامران | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 3 اگست 1953ء ساہیوال |
| تاریخ وفات | 15 مئی 2026ء (73 سال) |
| شہریت | |
| جماعت | پاکستان مسلم لیگ (ن) |
| مناصب | |
| رکن پنجاب صوبائی اسمبلی [1] | |
| رکن سنہ 15 اگست 2018 | |
| حلقہ انتخاب | پی پی-197 |
| پارلیمانی مدت | 17 ویں صوبائی اسمبلی پنجاب |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | سیاست دان |
| درستی - ترمیم | |
ملک ندیم کامران(3 اگست 1953ء-15 مئی 2026ء)، ایک پاکستانی سیاست دان تھے جو 1997 سے 1999 تک، 2008 سے مئی 2018 تک اور اگست 2018 سے جنوری 2023 تک پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رکن رہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
[ترمیم]ملک ندیم کامران 3 اگست 1953 کو ساہیوال میں ککے زئی پٹھان خاندان میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے 1974 میں بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی سے گریجویشن کیا اور بیچلر آف آرٹس کی ڈگری حاصل کی۔ [2]
سیاسی کیریئر
[ترمیم]ملک ندیم کامران 1997 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 181 (ساہیوال-II) سے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے۔[3] انھوں نے 25,058 ووٹ حاصل کیے اور پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار رانا محمد آفتاب احمد خان کو شکست دی۔[4] انھوں نے 2002 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 221 (ساہیوال-II) سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی نشست پر حصہ لیا لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ انھوں نے 11,163 ووٹ حاصل کیے اور وہ نشست پی پی پی کے امیدوار آفتاب احمد خان سے ہار گئے۔[5] 2008 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 221 (ساہیوال-II) سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے۔ [6] انھوں نے 36,376 ووٹ حاصل کیے اور پیپلز پارٹی کے امیدوار محمد ذکی چوہدری کو شکست دی۔[7] رکن پنجاب اسمبلی کے طور پر اپنے دوسرے دور میں، انھوں نے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی صوبائی کابینہ میں جون 2008 سے جون 2010 تک پنجاب کے صوبائی وزیر برائے خوراک اور پنجاب کے صوبائی وزیر برائے زکوٰۃ و عشر کے طور پر خدمات انجام دیں۔ [6]
وہ 2013 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 221 (ساہیوال-II) سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے۔ انھوں نے 55,462 ووٹ حاصل کیے اور پاکستان تحریک انصاف کے امیدوار شیخ محمد چوہان کو شکست دی۔ جون 2013 میں انھیں وزیر اعلیٰٰ شہباز شریف کی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انھیں پنجاب کا صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر بنایا گیا۔ جون 2013 میں انھیں وزیر اعلیٰٰ پنجاب شہباز شریف کی صوبائی کابینہ میں شامل کیا گیا اور انھیں پنجاب کا صوبائی وزیر زکوٰۃ و عشر بنایا گیا۔ نومبر 2016 میں کابینہ میں ردوبدل کرتے ہوئے انھیں پنجاب کا صوبائی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی بنایا گیا۔ وہ 2018 کے پاکستانی عام انتخابات میں حلقہ پی پی 197 (ساہیوال-II) سے مسلم لیگ (ن) کے امیدوار کے طور پر پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے لیے دوبارہ منتخب ہوئے۔[8]
وفات
[ترمیم]ملک ندیم کامران ایک طویل بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ ان کا انتقال جمعہ 15 مئی 2026 ءکو ہوا۔[9][10]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://www.pap.gov.pk/members/profile/en/21/1443
- ↑ "Punjab Assembly"۔ www.pap.gov.pk۔ 2018-01-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-15
- ↑ "Previous Assemblies"۔ www.pap.gov.pk۔ 2017-06-15 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-22
- ↑ "Punjab Assembly election result 1988–97" (PDF)۔ ECP۔ 2017-08-30 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-26
- ↑ "2002 election result" (PDF)۔ ECP۔ 2018-01-26 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-24
- 1 2 "Punjab Assembly"۔ www.pap.gov.pk۔ 2017-01-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-22
- ↑ "2008 election result" (PDF)۔ ECP۔ 2018-01-05 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-03-24
- ↑ "2013 election result" (PDF)۔ ECP۔ 2018-05-26 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-07-12
- ↑ SAMAA TV (15 May 2026). "PML-N leader Malik Nadeem Kamran passes away". SAMAA TV (بزبان انگریزی). Retrieved 2026-05-15.
- ↑ "PML-N leader Malik Nadeem Kamran passes away"۔ 24 News HD۔ 15 مئی 2026۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-05-15
- 1953ء کی پیدائشیں
- 3 اگست کی پیدائشیں
- 2026ء کی وفیات
- 15 مئی کی وفیات
- پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ارکان صوبائی اسمبلی (پنجاب)
- پنجاب ارکان صوبائی اسمبلی 1997ء تا 1999ء
- پنجاب ارکان صوبائی اسمبلی 2008ء تا 2013ء
- پنجاب ارکان صوبائی اسمبلی 2013ء تا 2018ء
- پنجاب ارکان صوبائی اسمبلی 2018ء تا 2023ء
- 1937ء کی پیدائشیں
- پنجاب صوبائی اسمبلی کے ارکان نامکمل